اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام ری سیٹ ہونے والا ہے، نظام میں تبدیلی کے بعد ملک کے معاملات میں بہتری آئے گی، تاہم اس عمل کے لیے کاروباری برادری کا تعاون ضروری ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے تجربات اور نظام سے سیکھنا ہوگا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس وقت تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، تاہم وہ اس حوالے سے کوششیں کررہے ہیں اور بہت سے کام بھی کیے جاچکے ہیں۔ ان کے بقول ملک کا نظام ری سیٹ ہونے والا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں بہت سے معاملات بہتر ہونے کی امید ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ نظام میں بہتری کے لیے کاروباری برادری کا تعاون درکار ہے، حکومت اور تاجر برادری کو مل کر ملک کی معیشت کو آگے لے کر چلنا ہوگا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل برآمدات میں ہر ممکن اضافہ ہے، ہدف 170 ارب ڈالر ہو یا 9 ارب ڈالر، ان کے لیے ہر ایک ڈالر اہم ہے۔انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی کہ جب تک وہ اپنے عہدے پر موجود ہیں، ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔محسن نقوی نے بتایا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران وہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں کئی مرتبہ ایران گئے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایران نہیں گئے، وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کئی دہائیوں سے جنگ اور پابندیوں کا سامنا کرنے کے باعث ایران تباہ حال ہوگا، لیکن ان کے ساتھ ایران جانے والے افراد وہاں خود انحصاری کی سطح دیکھ کر حیران ہوئے۔ ایران میں تعمیراتی اور گاڑیوں سمیت مختلف صنعتیں موجود ہیں اور متعدد اشیا مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز کرکٹ فائنل،طلائی تمغہ کیلئے روایتی حریف پاکستان اور بھارت مد مقابل
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو تیل کی درآمد جاری رکھنا ہوگی، تاہم ملک ہر سال 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی دیگر اشیا بھی درآمد کرتا ہے، جسے کم کرکے 20 ارب ڈالر تک لایا جاسکتا ہے۔












