کابل ( پاک ترک نیوز) افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی کارروائیوں میں تیزی آنے لگی ہے، مختلف طالبان مخالف تنظیموں نے ملک کے متعدد صوبوں میں حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ ستمبر کے دوران کئی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے درجنوں کارروائیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن میں قندھار، غور، پکتیا، کابل، ہلمند اور دیگر صوبے شامل ہیں۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق قندھار اور غور میں ٹارگٹڈ کارروائیاں کی گئیں۔ فرنٹ کا دعویٰ ہے کہ قندھار میں طالبان انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں طالبان گورنر کے دفتر پر حملے کے دوران گورنر کا ایک محافظ ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت تیز، مختلف صوبوں میں حملے
دوسری جانب نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے صوبہ پکتیا کے ضلع آریوب زازی میں طالبان کی ایک چوکی پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے مطابق حملے میں سات طالبان اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دو گاڑیاں تباہ اور چوکی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیاں حالیہ ہفتوں میں مختلف علاقوں تک پھیلنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایک تازہ جائزے کے مطابق ستمبر میں آٹھ مزاحمتی گروہوں نے مجموعی طور پر 37 ٹارگٹڈ کارروائیوں کا دعویٰ کیا، جن میں زیادہ تر گھات لگا کر حملے اور ٹارگٹڈ کارروائیاں شامل تھیں۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے بھی طالبان کی سکیورٹی تنصیبات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے قندھار سمیت طالبان کے مضبوط مراکز میں کارروائیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔












