
از: سہیل شہریار
پاک بحریہ کا روٹری ونگ فلیٹ اس وقت تقریباً 20 ویسٹ لینڈڈبلیو ایس۔ 61 سی کنگ ہیلی کاپٹرز کے ساتھ چھ ہاربن زید۔9ای سی اینٹی سب میرین وارفیئر (اے ایس ڈبلیو) ہیلی کاپٹرز ۔چار ایس اے۔316ایروسپیتیل اور تین 319الیوئیٹے۔تھری لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹرز پر مشتمل ہے۔
بحریہ کا یہ ہیلی کاپٹرز کا بیڑا تقریباً پانچ دہائیوں کے دوران بنایا گیا تھا۔ جس میں برطانیہ اور قطر سے تین الگ الگ دستوں میںحاصل کئے گئے ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔1974سے 2021کے درمیان حاصل کئے گئےیہ ہیلی کاپٹر مختلف ایئر فریمز پر مشتمل ہیںجن کی عمر اور ترتیب میں وسیع فرق ہے۔آج اس قسم کے ہیلی کاپٹرز کے لیے عالمی سپورٹ بیس سکڑ رہا ہے۔ تاہم پاک بحریہ نےاہم خریداریوں کے بڑے پروگرام میں ہینگور کلاس آبدوز پروگرام، جناح کلاس فریگیٹ، ایس ڈبلیو اے ٹی ایسپروگرام، اور سی سلطان ایل آر ایم پی اے کو فوقیت دیتے ہوئے نئے ہیلی کاپٹرز کی خریداری کو موخر کر دیا ہے ۔
اس وقت بحریہ کے 20 سی کنگ ہیلی کاپٹرز میں سے دو تہائی اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچ چکے ہیں۔جبکہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بحریہ ایک 12 ٹن تک درمیانے وزن والے پلیٹ فارم کو ترجیح دے رہی ہے۔ البتہ اس شعبے میں بڑھتے ہوئے پاک ترک تعاون نے S-70i بلیک ہاک کی خریداری کے امکان کو محدود کر دیا ہے۔ جبکہ چینی ساختہ AW101 اور AW159 کی لاگت پاک بحریہ کے بجٹ سے کافی زیادہ ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 2025 میں ہیلی کاپٹرز کے حوالے سے تعاون کا ایک نیا رخ سامنے آچکاہے۔ جس میں اب صرف خریداری کے بجائے مشترکہ ڈیزائن اور تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے۔ فروری 2025 میں اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس (ایچ ایل ایس سی سی) کے دوران دونوں ممالک نے ایک تزویراتی دفاعی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ جس کا مقصد دفاعی اور عسکری تعاون کو ممکنہ حد تک بلند ترین سطح پر لے جانا ہے۔اب اسی معاہدےکے تحت ترکیہ کےٹی۔ 625 اور ٹی۔925گوک بے (Gökbey) ہیلی کاپٹر کے پاکستانی ورژن کی تیاری پرکام کیا جا رہا ہے۔ یہ بالترتیب 6اور 12ٹن وزنی ہیلی کاپٹرز ہیں۔ ان میں سے پہلا ملٹی رول ہیلی کاپٹرہےجو سول اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوسراہیوی یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر ہے جس میں نیوالائزڈ ویرینٹ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک ۔ترک دفاعی معاہدے کا مقصد صرف ہیلی کاپٹربنانا نہیں بلکہ پاکستان میں اسمبلی پلانٹ کا قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ تاکہ پاکستان دفاعی اور سول ضرورت کے اس شعبے میں بھی خود کفیل ہو سکے۔اس سے قبل 2018 میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 30 عدداے ٹی اے کے۔129ٹی ہیلی کاپٹرز کا معاہدہ امریکی پابندی کے نتیجے میں انجن کے برآمدی لائسنس نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہنے کے بعد 2021میں ختم کر دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے اب دونوں ممالک مقامی انجنوں اور مشترکہ ڈیزائننگ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
دریں اثنا، پاکستان نے اپنی فوری دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل کے طور پر چین سےایک درجن سے زائد زیڈ۔10ایم ای ملٹی رول ہیلی کاپٹرز کے حصول پر بھی کام شروع کر رکھا ہے۔







