لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا میں کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،یورپ میں ہنٹا وائرس کی انٹری ہو ئی ،کئی مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آ گئے ،، بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز شپ پر پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ اور تین افراد کی ہلاکت کے بعد دنیا میں تھرتھلی مچ گئی۔ کیا یہ وائرس صرف ایک جہاز تک محدود ہے؟ یا یہ عالمی سفری نیٹ ورک کے ذریعے خاموشی سے پھیل رہا ہے؟
بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز شپ پر مہلک وائرس کے پھیلاؤ نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ، ایک ڈچ جوڑے کی المناک کہانی نے سب کو چونکا دیا۔ پہلے شوہر بیمار ہوا اور جہاز پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اہلیہ بھی بعد ازاں جانبر نہ ہو سکی۔۔ اب تک متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ کم از کم تین اموات کی تصدیق ہوئی ہے ۔
بنٹا وائرس کی ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں ،تیز بخار،جسم میں درد،تھکن ،الٹی یا متلی کی کیفیت ہوتی ہے ،سانس لینے میں دشواری ،پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے ،بلڈ پریشر بھی کم ہو جاتاہے ۔
ہنٹا وائرس ایک خطرناک متعدی وائرس ہے جو زیادہ تر جنگلی چوہوں اور دوسرے کچھ جانوروں میں پایا جاتا ہے ، یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو کر شدید بخار، پھیپھڑوں کی بیماری اور بعض صورتوں میں گردوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس عموماً جنگلی چوہوں کے پیشاب، لعاب یا فضلے سے آلودہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے پھیلتا ہے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں اس کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، جبکہ اینڈیز ہنٹا وائرس وہ نایاب قسم ہے جو محدود حد تک انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آلودہ جگہوں گوداموں، بند کمروں، لکڑی کے ڈھیروں، کھیتوں یا ایسی جگہوں پر جہاں چوہے موجود ہوں، وہاں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص وائرس سے آلودہ سطح کو چھو کر بغیر ہاتھ دھوئے منہ، ناک یا آنکھوں کو ہاتھ لگائے تو انفیکشن ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ افراد میں اینڈیز ہنٹا وائرس پایا گیا جو دنیا میں ہنٹا وائرس کی واحد قسم سمجھی جاتی ہے، یہ قسم محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ وائرس جہاز پر دیگر افراد میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔
ارجنٹینا کی وزارتِ صحت نے ڈچ جوڑے کے سفری راستوں، قیام گاہوں اور ممکنہ جنگلی چوہوں سے رابطے کی تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔ماہرین مختلف علاقوں میں چوہے پکڑ کر ان کے نمونے بھی جانچ رہے ہیں تاکہ انفیکشن کے اصل مقام کا پتہ لگایا جا سکے۔
ابھی ہنٹا وائرس کی کوئی مخصوص دوا یا ویکسین عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہے ۔تاہم بروقت تشخیص اور اسپتال میں نگہداشت سے مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔






