لاہور( پاک تر ک نیوز) خلا میں بڑا خطرہ۔۔۔ فالکن 9 کا حصہ چاند سے ٹکرانے کو تیار، سائنسدان الرٹ ہو گئے ،ایک فالکن 9 راکٹ رواں موسمِ گرما میں آواز کی رفتار سے سات گنا تیزی سے چاند سے ٹکرائے گا،ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 2025 کے اوائل میں خلا میں بھیجے گئے ایک فالکن 9 راکٹ کا اپر اسٹیج اس موسمِ گرما کے آخر میں چاند سے ٹکرائے گا، امکان ہے کہ یہ تصادم چاند کے سامنے والے حصے پر ہو گا۔
پروجیکٹ پلٹو کے بانی بل گری، جو زمین کے قریب موجود اجسام کو ٹریک کرنے والا معروف سافٹ ویئر تیار کرتے ہیں، نے اس ممکنہ ٹکراؤ کا وقت 5 اگست کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 2:44 بجے بتایا ہے۔
فالکن 9 راکٹ کا یہ اوپری حصہ 13.8 میٹر (45 فٹ) لمبا اور 3.7 میٹر (12 فٹ) قطر کا ہے۔ چونکہ چاند پر کوئی فضا موجود نہیں، اس لیے یہ حصہ بغیر ٹوٹے سیدھا سطح سے ٹکرائے گا۔
اگرچہ اس وقت چاند امریکہ کے مشرقی حصے، کینیڈا کے بڑے علاقے اور جنوبی امریکہ کے بیشتر حصوں سے نظر آئے گا، تاہم بل گری کے مطابق یہ تصادم اتنا مدھم ہوگا کہ زمین سے موجود دوربینوں سے شاید دیکھا نہ جا سکے۔
گری کے مطابق وہ اور دیگر ماہرین اس بات پر بہت پراعتماد ہیں کہ یہ شے وہی فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ ہے جو 15 جنوری 2025 کو دو قمری لینڈرز—فائر فلائی کا ۔۔بلو گھوسٹ۔۔ اور اسپیس کا ۔۔ہاکوٹو-آر۔ لے کر گیا تھا۔
لانچ کے بعد راکٹ کا یہ حصہ، لینڈرز اور فیئرنگ الگ ہو کر الگ الگ ٹریک کیے گئے۔ دونوں لینڈرز چاند تک پہنچ گئے ۔صرف بلو گھوسٹ کامیابی سے لینڈ کر سکا۔، جبکہ فیئرنگ زمین کے ماحول میں واپس داخل ہو کر جل گئی۔
گری کے مطابق اوپری مرحلہ زمین کے گرد گردش کرتا رہا مگر اتنی بلند مدار میں تھا کہ واپس زمین میں داخل نہیں ہوا۔ اس نے کئی بار چاند اور زمین کے قریب سے گزر کیا، مگر کبھی ایسا قریب نہیں آیا کہ اسے ممکنہ تصادم سمجھا جا سکے۔
گری کا اندازہ ہے کہ یہ شے چاند سے ٹکرانے کے وقت تقریباً 2.43 کلومیٹر فی کی رفتار سے حرکت کر رہی ہوگی۔ یہ رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔ یہ تصادم ممکنہ طور پر “اینسٹائن کریٹر” کے قریب ہوگا اور اس سے ایک چھوٹا سا گڑھا بنے گا، لیکن اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔
چار سال قبل بھی ماہرین نے ایک اور فالکن 9 اپر اسٹیج کے چاند سے ٹکرانے کی پیشگوئی کی تھی، لیکن بعد میں تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل چین کے “چانگ ای 5-T1” مشن کا حصہ تھا۔ بل گری کے مطابق اس بار کوئی شک نہیں کیونکہ اس شے کو لانچ کے وقت سے مسلسل ٹریک کیا جا رہا ہے۔چاند پر اس تصادم سے کسی قسم کا خطرہ نہیں کیونکہ وہاں کوئی انسانی آبادی یا فعال مشن موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فلاور مون کے بعد بلیو مون ،قدرت کا حیران کن کرشمہ
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ راکٹ کے اوپری حصے کو “ڈسپوزل مدار” میں سورج کے گرد بھیج دیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں زمین یا چاند سے ٹکرانے کے خطرے سے مکمل طور پر بچ جائے۔










