واشنگٹن:(پاک ترک نیوز) امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ دو پاکستانی شہریوں کو 10 ملین ڈالر کے ہیلتھ کیئر فراڈ کے الزام میں عدالت میں نامزد کیا گیا ہے، جس میں میڈی کیئر اور نجی انشورنس پروگرامز کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق، برہان مرزا، 31 سال، اور کاشف اقبال، 48 سال، سمیت دیگر ملزمان پر ایسے طبی دعوے جمع کرانے کا الزام ہے جو فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ یہ مبینہ فراڈ 2023 ء اور 2024 ء کے دوران، نامزد کمپنیوں اور میڈیکل آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے کیا گیا۔
امریکی محکمہ انصاف نے مزید بتایا کہ تین دیگر ملزمان پہلے ہی کیس میں اعتراف جرم کر چکے ہیں جن میں ویسٹ شکاگو کے 57 سالہ میر اکبر خان جو جعلی میڈیکل بزنس کے لیے نامزد مالکان بھرتی کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں جبکہ47 سالہ فصیح رحمان سید بھارتی شہری ہیں اور نوید رشید پاکستانی شہری جو ٹیکساس میں مقیم ہیں۔
برہان مرزا پر الزام ہے کہ انہوں نے افراد، صحت فراہم کرنے والوں اور انشورنس کمپنیوں کی شناختی معلومات بغیر اجازت حاصل کیں اور انہیں جعلی دعوے بنانے کے لیے استعمال کیا۔
کاشف اقبال پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹیکساس میں متعدد طبی آلات کی کمپنیوں کے ذریعے فراڈ میں حصہ لیا، دھوکے سے حاصل شدہ رقم پاکستان منتقل کی اور منی لانڈرنگ کی۔
امریکی نائب اٹارنی جنرل ٹڈ بلانچ نے کہا کہ "فراڈ کا خاتمہ محکمہ انصاف کی اولین ترجیح ہے۔” شمالی ڈسٹرکٹ آف ایلینائے کے اٹارنی اینڈریو ایس بطرس نے کہا کہ ملزمان نے صرف حکومت سے نہیں بلکہ امریکی ٹیکس دہندگان سے بھی دھوکا کیا۔
برہان مرزا پر 12 الزامات ہیلتھ کیئر فراڈ اور 5 الزامات منی لانڈرنگ کے لگائے گئے ہیں، جبکہ کاشف اقبال پر 12 ہیلتھ کیئر فراڈ، 6 منی لانڈرنگ اور 1 جھوٹی رپورٹ بنانے کا الزام ہے۔
عدالت میں پیشی ابھی طے نہیں ہوئی۔امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا کہ یہ الزامات صرف الزامات ہیں اور تمام ملزمان کو عدالت میں سزا ثابت ہونے تک بے گناہ سمجھا جائے گا۔
یہ کیس امریکی تاریخ میں صحت کے شعبے میں بڑے فراڈ کے مقدمات میں سے ایک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس طرح کے مالیاتی جرائم کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔












