پشاور ( پاک ترک نیوز) پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا کا شعبہ تعلیم مبینہ نااہلی اور کرپشن کے باعث شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے لاکھوں طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ 2024-25 میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں 92 کروڑ روپے (920 ملین روپے) سے زائد کی شدید مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف اساتذہ کی بھرتیوں اور ٹیبلٹس کی فراہمی سمیت مختلف اہم معاملوں میں ہی 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ،ڈیفنس میں ٹریفک حادثہ ،3نوجوان جاں بحق ،ایک شدید زخمی
دوسری جانب فنڈز کی عدم توجہی اور مبینہ بدعنوانی کی نذر ہونے کے باعث بنوں سے ہری پور تک سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ خصوصاً ڈی آئی خان، چارسدہ اور بونیر میں متعدد کلاس رومز مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں بچوں کی تعلیم کے تعطل کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔












