اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے برطانیہ کے لیے پروازوں کی گنجائش بڑھانے کی غرض سے ناروے کی فضائی کمپنی نورس اٹلانٹک ایئرویز سے دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے لیز پر لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ طیاروں کی آمد اور آپریشن کا آغاز نومبر 2026 سے متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت نورس اٹلانٹک پی آئی اے کو دو طیاروں کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور بیمہ کی سہولت بھی فراہم کرے گی۔ اس طریقۂ کار کو مکمل سہولیات سمیت طیارہ لیز پر لینا کہا جاتا ہے، جس کے تحت فضائی کمپنی کو صرف طیارہ ہی نہیں بلکہ اسے چلانے کے لیے ضروری انتظامات بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
دونوں کمپنیوں نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ طیارے برطانیہ کے کن مخصوص شہروں کے لیے استعمال ہوں گے، پروازوں کا شیڈول کیا ہوگا اور معاہدے کی مالی مالیت کتنی ہے۔
پی آئی اے نے برطانیہ کی جانب سے پروازوں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد 2024 کے اواخر میں وہاں اپنی فضائی سروس دوبارہ شروع کرنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ 2020 میں پاکستانی ہوا بازوں کی اسناد سے متعلق تنازع سامنے آنے کے بعد برطانیہ نے حفاظتی خدشات کے باعث پابندی عائد کی تھی۔
برطانیہ کا فضائی راستہ پی آئی اے کے لیے اہم بین الاقوامی منڈی ہے، تاہم طویل فاصلے کی پروازیں چلانے کے لیے مناسب طیاروں اور عملی وسائل کی دستیابی ضروری ہے۔ نئے طیاروں سے ایئرلائن کو اس ضرورت کو پورا کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب نورس اٹلانٹک ایئرویز اپنے طیاروں سے آمدن بڑھانے کے لیے دوسری فضائی کمپنیوں کو طیارے، عملہ، دیکھ بھال اور بیمہ فراہم کرنے کے کاروبار پر توجہ دے رہی ہے۔
کمپنی کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی فضائی کمپنی انڈیگو نے جولائی 2026 میں طویل فاصلے کی پروازوں کے منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ اس فیصلے کے بعد نورس اٹلانٹک کو اپنے طیاروں کے استعمال اور آمدن کے لیے نئے معاہدوں کی تلاش کرنا پڑی۔
کمپنی کے مطابق وہ دیگر بین الاقوامی فضائی اداروں کے ساتھ بھی ایسے معاہدوں کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ پی آئی اے کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اس حکمت عملی میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔












